رواں ماہ ڈینگی وائرس سے 374 افراد جان کی بازی ہار بیٹھے۔
پمز ہسپتال میں ڈینگی کے 155 مریض اور پولی کلینک میں 34 مریض زیرعلاج ہیں
جنوری سے اب تک ڈینگی کے کل 56 کنفرم مریض رپورٹ ہوئے ہیں، ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ پنجاب
سائنسدانوں نے کوالالمپور میں کامیابی سے ڈینگی کا پھیلاؤ روک دیا گیا ہے۔
سندھ ڈینگی کنٹرول پروگرام رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 247 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے۔
فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ کوہاٹ میں ایک شخص کی ڈینگی سے موت واقع ہونے کی خبر اخبار میں آئی، کیا کوہاٹ صوبے کا حصہ نہیں ہے؟
ذرائع کے کا کہناہے کہ اس وقت پولی کلینک میں ڈینگی گے 137 مریض زیر علاج ہیں۔ پولی کلینک میں 6 مریضوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے ۔
اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ڈینگی کے مریضوں کیلئے اسلام آباد میں بہترین ڈائگناسٹک سسٹم قائم کیا ہے، اسپتالوں کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز او پی ڈی میں خصوصی طور پر ڈینگی کے بچاؤ بارے مربوط آگاہی دینے کیلئے عملہ مقرر کریں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مریضوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
صوبہ پنجاب میں 24 گھنٹوں کے دوران 342 افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوئے اور وہاں پنجاب میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 ہزار 22 تک پہنچ گئی ہے۔
راولپنڈی انتظامیہ ڈینگی وائرس پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔
جڑواں شہروں کے نجی اسپتالوں کے 1 ہزار 250 بیڈز ڈینگی مریضوں کے لیے مختص کردیے گئے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے ضلع خانیوال میں بھی ڈینگی کا مرض پھیل گیا ۔ چند روز کے اندر 65 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی ۔
رپورٹ کے مطابق رواں برس سندھ میں 1998 مصدقہ ڈینگی کیسز سامنے آ چکے ہیں،-بلوچستان کے کیسز کی تعداد 1722 جبکہ پنجاب سے 1706 مصدقہ ڈینگی کے کیس سامنے آئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج جڑواں شہروں میں 147، ملتان میں ڈینگی کے تین نئے کیسزسامنے آگئے ۔ خیبرپختون خوا میں متاثرہ افراد کی تعداد گیارہ سو جبکہ کراچی میں سترہ سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔










