مجھے کبھی اس طرح کی شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا، سابق کپتان
ہم نے اچھی کرکٹ کھیلی تاہم سیمی فائنل میں کوالیفائی نہ کرنا بدقسمتی تھی، سرفراز احمد۔
اس سے قبل یہ ریکارڈ پاکستان کے عظیم بلے باز جاوید میاں داد کے پاس تھا جنہوں نے 1992 کے عالمی کپ میں 437 رنز بنائے تھے۔
میں وکٹ پر کافی وقت گزار چکا تھا اور اچھا کھیل رہا تھا۔ مجھے یہ میچ پاکستان کے لیے جیتنا چاہیے تھا، سلامی بلے باز۔
پاکستانی گیند باز نے یہ سنگ میل 19 سال اور 84 دنوں کی عمر میں پورا کیا
شکست کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز سیمی فائنل کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر ہوگئی ہے
انہوں نے یہ سنگ میل نیوزی لینڈ کے خلاف ورلڈ کپ کے 33ویں اور اہم میچ میں حاصل کیا
انگلینڈ کی ٹیم نے اب تک ٹورنامنٹ میں پانچ میچ کھیلے ہیں جن میں سے وہ چار میں کامیاب ہوئی
تمام کھلاڑی سرفراز احمد کی قیادت میں متحد اور آئندہ میچوں میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے تیار ہیں، ترجمان پی سی بی
جب آپ ہارتے ہیں تو کچھ لوگوں کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے، سابق بھارتی آف اسپنر ہربھجن سنگھ
بھارت کے خلاف میچ کے دوران جب سرفراز آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے تو غصے سے بولے کہ ٹیم میں گروپنگ چل رہی ہے، ذرائع
مرحوم والدہ کی خواہش تھی کہ میں پانچ وکٹیں لوں، جب آسٹریلیا کے خلاف ایسا کیا تو ان کے الفاظ یاد آئے اور رو پڑا، محمد عامر
چار میچوں میں سے دو میں شکست، ایک میں فتح اور ایک میچ بلانتیجہ نکلنے کے بعد پاکستانی ٹیم آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔
ویرات کوہلی کی بلے بازی کی ویڈیوز دیکھتا رہتا ہوں اور مختلف حالات میں بلے بازی کرنے کا طریقہ کار سیکھتا ہوں، نوجوان کرکٹر
عامر کی ٹورنامنٹ میں مجموعی وکٹوں کی تعداد اب 10 ہوگئی ہے۔














