دونوں ملکوں کے70سال پرمحیط تعلقات انتہائی اہم ہیں
شاہ محمود قریشی ایران کے صدر حسن روحانی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سمیت دیگر اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
نو سال بعد کسی روسی وزیرخارجہ کا پاکستان کا دورہ ہے
پاک بھارت مسائل کا کوئی فوجی حل نہیں ،وزیراعظم نے پہلے دن ہی بھارت کو پر امن طریقے سے مسائل حل کرنے کی دعوت دی تھی۔
گوادر پورٹ منصوبے گیم چینجز ہے جس سے نئے کاروبار اور کوسٹل انڈسٹریز کو فروغ ملے گا، وزیر خارجہ
پی ڈی ایم والے 31 جنوری کا انتظار کیوں کرتے ہیں جو فیصلہ کرنا ہے کرلیں، وزیرخارجہ
سینئیرصحافی کے انتقال پر دفتر خارجہ نے ہفتہ بریفنگ بھی ملتوی کردی
وزٹ ویزا پر مبینہ پابندی کے چند ہفتوں بعد وزیرخارجہ کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے
طالبان وفد کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں کی تعریف کی
شاہ محمود قریشی نے بھی اسلام فوبیا کے بڑھتے رجحان سے متعلق ترک صدر کے موقف کی تائی کی
رابطہ گروپ نے او آئی سی کے اصولی موقف کی توثیق کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ یہ دورہ کشمیریوں کیساتھ اظہاریکجہتی کرنے کیلئے ہے
دیکھنا یہ ہے کہ دہری شہریت پر قانون اور آئین کیا کہتا ہے؟وزیرخارجہ
بھارت پاکستان کےخلاف بہانےتلاش کررہا ہے اور اپنےعزائم کیلئےکچھ بھی کرسکتا ہے، وزیرخارجہ
چیلنج ہے کہ کیا ہمارے ملک کا نظام صحت بوجھ برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔ ہمارے حکومت ایک بڑی تصویر کو سامنے رکھ کر فیصلے کر رہی ہے، شاہ محمود














