میکرو اکنامک استحکام موجودہ حکومت کی اولین فکر ہے،وزیر خزانہ
پاکستان میں مہنگائی دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے، عمران خان نے اپنے دور میں 20 ہزار ارب روپے کا قرض لیا، وفاقی وزیر خزانہ کی ذرائع ابلاغ سے بات چیت
جہاں حکومت کو پیٹرول چاہیے ہوتا تھا، وہاں مل جاتا تھا لیکن عوام کے لیے نہیں ملا، وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس، 68.74 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری۔
وزیر خزانہ کے انتخاب تک عہدہ وزیر اعظم کے پاس ہی رہے گا
پاکستان کو طویل مدت کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، شوکت ترین
حکومت کی توجہ متاثرین اور کم آمدن طبقے کو پیروں پر کھڑا کرنا ہے، شوکت ترین
پیٹرولیم مصنوعات پر حکومت 39 ارب روپے کا ریلیف دے رہی ہے، شوکت ترین
شرح سود کو بڑھانے کا مقصد معیشت کو بہتر کرنا تھا، شوکت ترین
ملک ترقی کر رہا ہے،ٹیکس سسٹم کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، غریب لوگوں کا خیال رکھیں گے
آئی ایم ایف پراویڈنٹ فنڈ سے ٹیکس استثنا نکالنا چاہتا ہے، جس سے غریب پر بوجھ پڑے گا۔وزیر خزانہ
افغان بحران کے باعث ہماری کرنسی پر دباو ہے، افغانستان سے کہا ہےکہ ڈالر کے بجائےپاکستانی روپے میں لین دین کرے
آئندہ 10 سال میں روزگارمیں اضافہ ہو گا، شوکت ترین













