یومیہ 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر 0.8 فیصد ٹیکس لاگو ہے
بجٹ تجاویز کے تحت حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے
انکم ٹیکس کے حوالے سے ایک نیا کلاسفیکیشن سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس میں فائلر اور نان فائلر کے فرق کا خاتمہ کیا جائے گا۔
نان فائلرز کیلئے گاڑیاں اور جائیداد کی خریداری پر پابندی برقرار ہے گی، ذرائع
جائیداد کی خریداری، گاڑیوں کی خریداری،کرنٹ اکاؤنٹس کھولنا اور دیگر ابتدائی پابندیوں میں شامل ہیں
نان فائلرز کے بیرون ملک جانے پر پابندیاں بھی عائد ہو سکتی ہیں، ایف بی آر
تاجر دوست سکیم کے تحت وصول کیا گیاایڈوانس ٹیکس بھی ایڈجسٹ ایبل ہوگا، چیف کوآڈینیٹر
تجویز کی منظوری کی صورت میں ایف بی آر ٹیلی کام اور دیگر اداروں یا فرد کو جرمانہ کر سکے گا
50 ہزار روپے سے زائد رقم نکالنے پر 0.6 فیصد ایڈوانس ٹیکس عائد ہے
حکومت کی پراپرٹی کی خریداری پر نقد کے بجائے بینک کے ذریعے لین دن کی تجویز
اب تک 7 لاکھ 46 ہزار نان فائلرز کو نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں
10 لاکھ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں رجسٹر کرنے کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا۔
نوٹسز کا جواب نہ دینے والے نان فائلرز کی بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کر دیئے جائیں گے۔
بجٹ میں بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کی سفارش
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 500 مربع گز کے گھر اور 1000 سی سی انجن کی حامل گاڑی رکھنے والے ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا












