طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 92 ہو گئی۔
جاں بحق افراد میں سے 19 کی شناخت کر لی گئی ہے۔
طیارہ حادثے میں جاں بحق افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کی جائے گی، غلام نبی میمن
طیارہ حادثے سے متاثرہ 70 افراد کے اہل خانہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، چیئرمین پی آئی اے
پی آئی اے کی پرواز میں ڈیوٹی لگی لیکن کسی وجہ سے جہاز پر نہیں جا سکی،مدیحہ ارم
چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی ایئر کموڈور عثمان غنی کریں گے۔
صوبائی محکمہ صحت کے مطابق اسپتالوں میں لائی جانے والی 66 نعشوں میں سے پانچ کی شناخت ہوچکی ہے
قیاس آرائیوں سے لواحقین اور متاثرین کی دل آزاری ہو گی، بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ
مراد علی شاہ نے حادثے سے متاثرہ گھروں کے مکینوں کی ہر طرح مدد کرنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے پی آئی کا عملہ اسپتال میں موجود ہے پائلٹ کے نام ابھی تک نہیں بتائے گئے
پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 میں 99 مسافر اور عملے کے 8 ارکان سوار تھے۔
ہم نیوز کے مطابق بد قسمت طیارے کو پائلٹ سجاد گل اور فرسٹ آفیسر عثمان اعظم اڑا رہے تھے
آرمی کوئیک ری ایکشن فورس اور پاکستان رینجرز سندھ موقع پر پہنچ گئے ہیں۔ پاک فوج اور سندھ رینجرزامدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کریں گے
طیارہ حادثے میں ایک کریو ممبر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔
طیارہ حادثہ عام معاملہ نہیں پوری دنیا کی نظریں اس مقدمے پر ہوں گی، روحانی













