صدر مملکت کی جانب سے تاریخ کے انتخاب کے بعد الیکشن کمیشن اپنے آئینی اور قانونی فرائض انجام دینے کے لئے تیار ہے، خط
منظوری آئین کے آرٹیکل 75 کے تحت دی گئی ہے
آئین اور قانون میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ الیکشن کی تاریخ کمیشن دے گا، الیکشن کمیشن کا اعلامیہ
گرفتاری پہلے ہوتی ہے اور قانون بعد میں دیکھ کر زبردستی لاگو کیا جاتا ہے۔
یہ آئین توڑنے کو بھی تیار ہیں، مرکزی سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی
خط میں حلف کی خلاف ورزیوں کی تفصیلات بھی ارسال کی گئی ہیں
حالات جیسے بھی ہوں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری انتخابات کروانا ہے۔
آئین کا آرٹیکل 224 اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90 دن میں پر الیکشن کرانے پرزور دیتا ہے
وزیر اعظم کو اعتماد کے ووٹ کی فی الوقت ضرورت نہیں ان کے نمبرز پورے ہیں۔
عمران خان نے موجودہ آرمی چیف کے نام پر اطمینان کا اظہار کیا تھا، عارف علوی
بل کے منظور کرنے سے بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر ہو گی۔
صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے درمیان ملاقات ہوئی۔
صدر مملکت نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کو بھی نشان امتیاز ملٹری سے نوازا۔
تمام اداروں کو اپنی ائینی حدود میں رہنا چاہیے، خواجہ آصف
ڈاکٹر عارف علوی نے عمران خان سے نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے آئینی، قانونی اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔












