پانچ رکنی لارجر بینچ 25 اکتوبر کو ریکوڈک سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کرے گا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال ، جسٹس اعجازلاحسن اور جسٹس منیب اختر نے اکثریتی فیصلہ دیا ہے۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ نے صدارتی ریفرنس کی سماعت کی
پارٹی سے انحراف پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوتا، رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی
آرٹیکل 63 اے کا مقصد پارٹی سے دفاداری کو یقینی بنانا ہے، چیف جسٹس
سپریم کورٹ کا پانچ رکنی لارجر بینچ تحریک عدم اعتماد سے متعلق کیس سن چکا ہے، موقف
آرٹیکل 63اے میں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی، جسٹس اعجازالاحسن
رکنیت ختم ہونا آئین کی زبان کی قریب ترین تشریح ہوگی، چیف جسٹس
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بنچ سماعت کررہا ہے
آئین میں کہیں واضح نہیں کہ پارٹی سے وفادار رہنا ہے یا نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس
سرینا چوک، نادرا، ڈی چوک اور میریٹ چوک سے تمام راستے بند کردیئے گئے
آرٹیکل 63 اے میں پارٹی ڈائریکشن کیخلاف ووٹ ڈالنے پرکوئی نااہلی نہیں ہے، تحریری جواب
چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سماعت ایک بجے شروع ہو گی،
بینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو بھی فالو نہیں کیا گیا، خط کا متن
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائرکیا گیا۔








