سعودی عرب میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 900 سے زائد ہو گئی ہے۔
مملکت میں 21 روز کیلئے شام 7 بجے سےصبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا، ایجنسی
کانفرنس میں نہ صرف لوگوں کے تحفظ بلکہ عالمی معیشت کو محفوظ بنانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
سعودی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے کے تحت مساجد میں صرف آذان دی جائے گی اور اقامت ہوا کرے گی۔
مکہ مکرمہ میں کنگ عبداللہ زم زم پلانٹ غیر معینہ مدت کے لیے بند رہے گا۔
محکمہ اسلامی وقف نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر مسجد الاقصیٰ میں بند دالانوں میں تاحکم ثانی نماز کی ادائی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے
کورونا وائرس کے پیش نظر صرف سپر مارکیٹس اور فارمیسیوں کو کھلا رکھا جائے۔
سعودی عرب نے پاکستانیوں سمیت تمام اقامہ ہولڈرز کو ملک میں واپسی کیلئے 72 گھنٹے کا نوٹس دیا تھا لیکن 24 گھنٹے پہلے ہی غیر ملکی پراوزیں بند کر دی ہیں
ہائی کمیشن کے اہلکار میں کورونا وائرس جیسی علامات سامنے آنے کے بعد احتیاطی طور پر ویزا سیکشن اور کونسلر ایکسس بند کر دی گئی۔
پاکستانیوں سمیت تمام رہائشی اور اقامہ ہولڈر کو واپسی کیلئے 72 گھنٹے دے دئیے، سعودی محکمہ داخلہ
خطبہ جمعہ پندرہ منٹ جبکہ نمازوں کو مختصر دورانیے میں پڑھایا جائے، وزیر مذہبی امور کی ہدایت
امداد عالمی ادارہ صحت کو انسانی ہمدردی کے تحت کی جا رہی ہے، مشیر ایوان شاہی ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ
واضح رہے کہ گزشتہ روز سعودی عرب میں کورونا وائرس کے 4 مزید کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
نئے مریض بھی ایران سے واپس وطن پہنچے تھے، سعودی وزارت صحت
امریکی میڈیا کے مطابق سعودی حکام نے شہزادوں کو حراست میں لیے جانے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔














