شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان بھی سیلف آئسولیشن میں ہیں جب کہ ریاض کے گورنر فیصل بن بندر اسپتال میں داخل ہیں اور انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے
سعودی وزیر صحت نے کہا کہ وبا پھیلنے کی بڑی وجہ لوگوں کا حکومتی ہدایات پر عمل نہ کرنا ہے۔
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 2795 تک پہنچ گئی ہے، ڈاکٹر توفیق الربیعہ
’نجی ادارے ملازمین کے اوقات کار اور تنخواہوں میں کمی اور انہیں بلاتنخواہ چھٹی پر بھیجنے یا ہنگامی چھٹی دینے جیسے اقدامات کرسکتے ہیں۔‘
ورونا وائرس ایک شخص سے 70 افراد میں منتقل ہوا اور اس پر قابو پانے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، حفاظتی اقدامات پر جتنا سختی سے عمل ہوگا وبا پر اتنی جلدی قابو پا لیا جائے گا
سعودی عرب میں اب تک 25 افراد موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔
غیر ملکی افراد کے اقامے آئندہ تین ماہ کے لیے بنا کسی فیس کے آن لائن تجدید کیے جائیں گے۔
سعودی عرب میں ایک دن کے اندر چھ افراد جاں بحق، تعداد 16 ہوگئی۔
حجاج کرام اور عمرہ زائرین کی ہر حال میں خدمت کے لیے سعودی عرب پوری طرح تیار ہے، لیکن ابھی حالیہ دنوں میں ہم ایک عالمی وباء کا سامنا کر رہے ہیں
مطاف کے حصے میں مخصوص لوگ ہی طواف کر سکیں گے۔ خانہ کعبہ کے گرد حفاظتی ڈھانچہ کھڑا کیا گیا ہے اور اس کے قریب جانے کی اجازت نہیں ہوگی
سعودی میڈیا کے مطابق سعودی شہر ریاض دھماکوں کی آوازوں سے لرز اٹھا تھا۔
قریبی علاقوں کے افراد بھی کرفیو والے علاقوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے، مقامی انتظامیہ
یہ حرکت مذہبی اور قانونی طور پر قابل مذمت ہے اور اس کو جان بوجھ وبا پھیلانے کے زمرے میں شمار کیا جارہا ہے، سعودی ذرائع
کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1012 ہو گئی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے حج معاہدہ 2020 پر عملدرآمد نہ کیا جائے، مراسلہ













