سندھ ہائیکورٹ نے رینجرز پراسیکیوشن سے 3 ماہ میں جواب طلب کرلیا
کیس میں ملزمان کے خلاف 400عینی شاہدین اور دیگر نے اپنے بیان ریکارڈ کرائے ہیں
گواہ نے بیان میں بتایا کہ فیکٹری آتشزدگی میں دو سو انسٹھ افراد جل کر جاں بحق ہوئے۔پچھتر ناقابل شناخت لاشو ں میں سے اٹھاون کو ڈی این اے کے بعد لواحقین کے حوالے کردیا گیا تھا۔
گیارہ ستمبر 2012 کو سفاک قاتلوں نے گھناؤنا کھیل کھیلا۔ بلدیہ کے علاقے میں قائم فیکٹری میں کام کرنے والے جیتے جاگتے انسانوں کو شعلوں کی نذر کردیا گیا تھا۔
رؤف صدیقی نے کہا ہے کہ آج کل سیاست میں عزت بچانا مشکل ہو گیا ہے۔ جتنی بھی عدم برداشت ہو گی اس سے انتشار ہی پھیلے گا۔
کراچی: سانحہ بلدیہ فیکٹری کے مقدمے کے سابقہ انویسٹی گیشن افسر (آئی او) جہانزیب نے تحفظ کے لیے عدالت سے…
کراچی: سندھ کے مشیر اطلاعات، قانون اور اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ اور 12 مئی…
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ کے متاثرین کی جانب سے معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق درخواست پر فریقین کو…






