مالی سال 24-2023 کے وفاقی بجٹ میں دکانداروں پر ٹیکس عائد کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔
سابقہ دور معیشت کے حوالے سے ملک کا سیاہ ترین دور تھا۔
موبائل فونز کی درآمد پر 100 روپے سے 16 ہزار روپے تک لیوی عائد کی گئی ہے۔
بجٹ میں 1 کھرب 35 ارب 20 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات جبکہ 28 ارب 50 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں
مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے جسے حکومت کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔
پی ٹی آئی کی معاشی پالیسی تمام شعبوں کے لیے بہترین تھی۔
رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہو گا اور بجلی بل کے ذریعے دکانوں سے فکس ٹیکس لیں گے۔
معیشت وینٹی لیٹر پر اور سیاسی نظام انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہے
پنجاب کے عوام کو سستے آٹے کی فراہمی پر 200 ارب روپے کی سبسڈی دی۔
صوبے کا آئندہ مالی سال کا بجٹ580 ارب روپے سے زائد کا ہو گا
کم آمدنی والے ممالک میں صرف 12 فیصد کو ذہنی علاج کو سہولت ملتی ہے
پنجاب اسمبلی میں منحرف اراکین غیر آئینی بجٹ پاس کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم پھر بحال، صوبائی وزیر خزانہ کا بجٹ اجلاس سے خطاب
بجٹ اجلاس میں وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم کو بھی دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ہر شخص کے لیے ایک جیسا قانون ہو تو ملک آگے بڑھ سکتا ہے، ہمیں سیاست کے بجائے بجٹ پر بات کرنی چاہیے۔














