یورپی ایجنسی نے ویکسین کو ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی موثر قرار دیا ہے۔
امریکی دوا ساز کمپنی جانسن ایںڈ جانسن کی کی تیار کردہ ویکسین کی آزمائش ناکامی کا شکار ہوگئی ہے۔
صوبائی وزیر صحت عذرہ پیچوہو نے کہا ہے کہ سندھ میں ایڈز کے مرض میں کمی آ رہی ہے اور لوگ اب ٹیسٹ کرانے آ رہے ہیں۔
حکومت سندھ ڈبلیو ایچ او کے ساتھ مل کر ایچ آئی او کو کنٹرول کرنے کے لیے ستمبر میں ڈونر کانفرنس بلائے گی۔
وزیر اعلی سندھ نے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری کے علاوہ نگرانی کے لیے چھ رکنی کمیٹی کی منظوری بھی دی ہے۔
پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے صوبے میں ایچ آئی وی کیسز میں اچانک اضافے سے متعلق خبروں کی تردید کردی ہے۔
5 اضلاع میں تقریباً تین ہزارسے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اہل علاقہ اور سماجی شخصیات کا ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ
قومی ادارہ صحت نے ایچ آئی وی سے بچاؤاور روک تھام کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کردیاہے
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے ادویات محکمہ صحت سندھ کو فراہم کر دی گئیں۔
سندھ میں فائر فائٹنگ ہورہی ہے۔ ہمیں احساس ہوگیا تھا کہ اس معاملے میں عالمی مدد کی ضرورت تھی تب ہی عالمی ادارے صحت کی ٹیم کو بلایا گیا۔
ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کو زندگی بھر مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائیگی، بلاول بھٹو
صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ سندھ میں 5 سو عطائی ڈاکٹروں کے کلینکس بند کرا دیے ہیں۔
1584 افراد کی بلڈ اسکریننگ کی گئی جس میں53 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔متاثرین میں45 بچے اورا ٓٹھ خواتین شامل ہیں۔
25 اپریل سے 8 مئی تک 5224 افراد کی ایچ آئی وی اسکریننگ کی گئی جن میں مجموعی طور پر 4 فیصد افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، رپورٹ
لاڑکانہ میں لوگوں کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے جس میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔












