ایف بی آر نے سال 2018 ,2017 کے دوران لاکھوں روپے کے ڈالرز خریدنے والوں کے ٹیکس معاملات کی چھان بین شروع کردی ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق شہری اب 15 جنوری 2020 تک اپنے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں۔
انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر کردی گئی، نوٹیفیکیشن
ڈاکٹر وقار احمد نے ملک بھر کے تما م چھوٹے بڑے ایکسپورٹرز اور تاجر برادری تک حکومت کی ان نئی ایکسپورٹ پروموشن اسکیموں سے آگاہی کی ضرورت پر زور دیا ۔
حکومت کے منصوبے کے مطابق آئندہ 2 سے 4 سال کے دوران کاروباری طبقے کےلیے ویلیوایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی)مکمل طور پر نافذ کیاجائےگا۔
چھوٹے بڑے کاروبار کی رجسٹریشن کیلئے نئی حکمت عملی تیار کرلی گئی، مراسلہ
ایف بی آر کے مطابق زمین اسلام آباد نیو ائر پورٹ کے قریب واقع ہے،، چوہدری تنویر کے چھ بے نامی افراد نے کبھی انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔
گزشتہ پانچ سال سے ایف بی آر کی جانب سے کرکٹر محمد حفیظ کا آڈٹ کیا جا رہا ہے۔
ایف بی آر کی طرف سے کہا گیاہے کہ ٹیکس گزاروں و کاروباری افراد اور تجارتی تنظیمات سے درخواست ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی شکایات درج کرائیں تا کہ پالیسی پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کیا جا سکے۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ ملک کے تاجر حکومتی اوچھے ہتھکنڈوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے،
عمران خان نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافے سے موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی ٹیکسوں کا بوجھ کم ہوگا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ بزنس کمیونٹی کے خلاف ایف بی آر کے فوجداری اختیارات کے ختم استعمال کی بہت زیادہ شکایات ہیں۔
ایف بی آر بہت جلد مکمل آٹومیشن حاصل کر لے گا۔ چیئرمین شبر زیدی کا افتتاحی تقریب سے خطاب
‘ایف بی آر کو ختم کر دیں پھر دیکھیں کتنا پیسہ جمع ہوتا ہے۔’
تاجروں نے آبپارہ سے ایف بی آر کی طرف جانے والا راستہ بلاک کردیا












