احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کے موجودہ رویوں کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا۔ حکومت کی اپنی اہلیت اور صلاحیت پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
جسٹس (ر) رشید اے رضوی نے کہا ہے کہ حکومت نے تو شکر کیا کہ عدالتی فیصلے نے ان کے سر سے ایک بوجھ اتار دیا ہے۔
انور منصور خان نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے بھی گارنٹی مانگی تھی اور عدالت نے بھی گارنٹی لی ہے۔
ماہر قانون عبدالمجیب پیرزادہ نے کہا کہ حکومت نواز شریف کو بلیک میل کر رہی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس جلد ہو رہا ہے جس میں احتجاج اور حمایت پر غور کیا جائے گا۔
رہنما جے یو آئی ف نے کہا کہ موجودہ نظام میں وزیر اعظم کو بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کیا کرنا ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ آزادی مارچ کے آئندہ کا لائحہ عمل حزب اختلاف کی جماعتیں مل کر کریں گی۔
عامر ضیا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا پلان بی پر عملدرآمد کا اعلان حکومت کی تشویش میں مزید اضافہ کر دے گا۔
خرم دستگیر نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد بھی عمران خان نے عدالت لگائی اور اپنے فیصلے کر رہے ہیں جبکہ عدالت واضح طور پر باہر جانے کی اجازت دے چکی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نہال ہاشمی نے کہا کہ نواز شریف نے بیرون ملک جانے کے لیے کبھی بھی کوئی معاہدہ نہیں کیا یہ جھوٹے پروپیگنڈے ہیں۔
فیصل جاوید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا وہ کرا دیا لیکن انہیں نہ تو این آر او ملے گا اور نہ استعفیٰ ملے گا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ ملک میں ایک طبقہ ایسا ہے جو چاہتا ہے سیاست کنٹرول میں رہے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ آصف علی زرداری کو بغیر کسی جرم ثابت ہونے کے گرفتار کر رکھا ہے اس لیے وہ ضمانت لینا نہیں چاہتے۔
ماہر قانون نے کہا کہ حکومت انتخابات کی طرف نہیں جائے گی کیونکہ اس کا انہیں نقصان بھی ہوسکتا ہے دیگر جماعتیں بھی انتخابات کے لیے تیار نہیں ہیں۔
میزبان عامر ضیا نے کہا کہ دھرنے نے ہر کسی کو مشکل میں ڈال دیا ہے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔














