یہ ترمیم بے اثر ہے، جو مراحل تھے وہ پورے ہی نہیں کیے گئے۔
صدر مملکت نے اپنے ہی عہدیداروں کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا ہے
میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ثابت کر دیا کہ اب انہیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔
سیاسی جماعتوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ملکی مفاد کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ قائم مقام گورنر بلوچستان سے بات چیت
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے جو اعلان کیا تھا وہ اس سے پیچھے ہٹ گئی جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید کوئی معاملات طے ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کے رویے میں بھی نرمی نظر آئی۔
پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا کہ حزب اختلاف کو اعتماد میں لیے بغیر مسلم لیگ ن کا آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کرنا یوٹرن ہے۔
پیپلزپارٹی نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں ترمیم کیلئے تجاویز پیش کرنی تھیں
وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ آرمی ترمیمی ایکٹ کل متفقہ طور پر منظور ہو جائے گا، اس حوالے سے تمام جماعتیں ایک صفحے پر ہیں۔
قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں پی پی نے اپنی تجاویز پیش کیں اور قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں بھی جمع کرادیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے جمہوری طریقہ کار پر عملدرآمد نہ کیا تو حکومت کو قانون کی منظوری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ مہنگائی سے تنگ عوام جلد سڑکوں پر ہوں گے جس سے حکمرانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا۔
ہم جو کر سکتے تھے کیا اس زیادہ ہمارے اختیار میں نہیں تھا، چیئرمین بلاول
مسلم لیگ ن نے حمایت کے فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا، بلاول
آرمی ایکٹ میں ترمیم کرنا ہوگی آئین میں نہیں اور اس کے لیے موجود ارکان کی اکثریت درکار ہوگی، حکومتی ذرائع
وزارت دفاع اور قانون نے ترمیمی مسودہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔














