وفد کی قیادت آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیائی جہاد آزور کریں گے، ذرائع
وزیراعظم کو واضح کر دیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانا ایک راستہ ہے مجبوری نہی
وزارت خزانہ کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیاہے کہ جرمنی سے ملنے والی رقم توانائی ، صحت اور معاشی ترقی کے اہداف پر خرچ کی جائے گی۔
گزشتہ برس پاکستان کی درآمدات 51 ارب ڈالرز رہیں جبکہ پاکستان کی برآمدات محض 21 ارب ڈالرز تک تھیں۔
کرسٹین لیگارڈی کے جان نشین کے طور پر بینک آف انگلینڈ کے گورنر مارک کارنی، بینک آف فن لینڈ کے گورنر اولی ریہن اور یورپین سنٹرل بینک کے ایگزیکٹو بورڈ رکن بین ویٹ کوئرکے نام لیے جارہے ہیں۔
رپورٹ میں روپے کی بتائی جانے والی قیمت پیش گوئی نہیں بلکہ اندازہ ہے، آئی ایم ایف۔
کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 لاکھ ڈالر اضافہ سے 7.17 ارب ڈالر ہو گئے۔
گزشتہ سال 23 ارب ڈالر کی برآمدات رہی تھیں جب اس سال حکومت نے 24 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا، رزاق داؤد۔
حکومت پر سٹیٹ بنک سے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے نیا قرضہ لینے پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک اگلے پانچ سال میں پاکستان کو یہ رقم فراہم کرے گا، اعلامیہ۔
عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری کے بعد1 ارب ڈالر کی پہلی قسط آج موصول ہو گئی ہے۔
رضا باقر اور مشیر خزانہ نے ملک کو درپیش معاشی بیماری کی نشاندہی صحیح طور پر کر دی ہے
آئی ایم ایف نے پاکستان کے حوالے سے جو اعداد و شمار دیئے ان میں بہت غلطیاں ہیں
پی ٹی آئی رہنما عمر چیمہ نے کہا کہ احتساب کی وجہ سے حزب اختلاف کی صفوں میں افراتفری مچی ہوئی ہے۔
قرض پاکستان کے اقتصادی پلان کی مدد کیلیے دیا جائے گا، جس سے پاکستان کی معیشت کی تسلسل سے ترقی بحال ہوگی













