اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرقواعد و ضوابط کے تحت اجلاس کے شیڈول میں تبدیلی کرنے کے مجاز ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کی نامزدگی پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات نہیں ہوسکے ہیں اور پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلوایا جا سکا ہے۔
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس ضمن میں نوٹیفیکشن جاری کردیا ہے۔ نوٹیفیکشن کے مطابق استعفیٰ کا اطلاق آج مورخہ 20 نومبر 2019 سے ہوگا۔
صادق خان سنجرانی کی طرف سے لکھے گئے خط میں تجویز کیا گیا ہے کہ ممبران کی تعیناتی کے لیے اسپیکر اور چیرمین سینیٹ کی ملاقات ہونی چاہیے۔
سرکاری اعلامیے میں کہا گیاہے کہ ملاقات میں کشمیر کے صورتحال، امہ کو درپیش چیلنجزاور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بین الپارلیمانی یونین کے سیکرٹری جنرل اور دولت مشترکہ کے پارلیمانی ایسوسی ایشن کے قائم مقام سیکرٹری جنرل کو خطوط لکھ دیے ہیں ۔
اسپیکر نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی منسوخی کا حکم آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 3 کے تحت کیا ہے۔
خط اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہدایت پر لکھا گیا۔
پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ آصف زرداری کو پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے کی سزا مل رہی ہے۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے اس موقع پر دعوی کیا کہ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت اس پر جلد قابو پا لے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بین الپارلیمانی یونین کے 189 ممالک کی پارلیمانوں کو خط لکھا ہے۔
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے سابق صدر آصف علی زرداری ،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور خواجہ…
ملاقا ت میں ممبران قومی اسمبلی سید نوید قمر ، خرم دستگیر خان ، احسان اللہ ٹوانہ ، ڈاکٹر حیدر علی اور ایوب افریدی بھی شریک ہوئے۔
اپوزیشن نے اجلاس میں زیر حراست اراکین کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ اٹھایا تاہم اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ن لیگ نے درخواست ہی نہیں دی پیپلزپارٹی کی درخواست پر غور جاری ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی پرامن اجلاس چلانے کے خواہش مند ہیں لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہاؤس مکمل ہو۔ شازیہ مری














