حکومت کی جانب سے جون 2019 سے 40 ہزار روپے مالیت والے پرائز بانڈز کی فروخت پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے کہ حکومت کو شرح سود کم کرنا پڑے گا ورنہ معیشت کا برا حال ہو جائے گا۔
گزشتہ سال جولائی میں موبائل فونز کا درآمدی بل تین کروڑ 73 لاکھ تھا جو کہ اس سال بڑھ کر سات کروڑ 38 لاکھ ہوگیا ہے، رپورٹ
جولائی 2019 میں چار کروڑ 67 لاکھ ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کی گئیں، اسٹیٹ بینک
حکومت ایکسچینج کمپنیوں کے آپریشنز بند کر کمرشل بینکوں کے حوالے کرنا چاہتی ہے،ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن
یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے نوٹیفیکیشن کے مطابق گھی کی قیمت میں 26 روپے فی کلو کمی کردی گئی
کمرشل بینکوں کے ذخائر 5 لاکھ ڈالر اضافہ سے 7.17 ارب ڈالر ہو گئے۔
ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکٹ پر صفر اعشاریہ 54 فیصد جبکہ ریگولر انکم شرح منافع صفر اعشاریہ 96 فیصد اضافہ کیا گیا، نوٹیفیکیشن۔
امسال حکومت کو ریکارڈ 9.2 ارب ڈالرز کا قرض واپس کرنا ہے۔ پاکستان آئندہ پانچ سالوں میں 37 ارب ڈالرز کا قرض واپس کرے گا۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1.02 ارب ڈالر کمی ہوئی ہے جس کے بعد یہ 9 ارب 24 کروڑ ڈالر رہ گئے، اسٹیٹ بینک
شرح سود میں اضافے سے مقامی قرض پر سالانہ سود کی ادائیگی بڑھ جائے گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے اور ہم 5 سال میں 50 لاکھ گھر بنانا چاہتے ہیں۔
مالیاتی خسارہ چھ سے سات فیصد تک رہنے کا امکان ہے،اسٹیٹ بینک نے دوسری سہ ماہی جائزہ رپورٹ جاری کردی۔
ابتدائی سات مہینوں میں بیرونی سرمایہ کاری 75 فیصد کم واقع ہوئی ہوئی ہے، اعلامیہ
موڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی بینکوں نےحکومتی بانڈز میں بہت رقم لگا رکھی ہے












