ہم ملک کی پالیسی کے حساب سے ہی چلیں گے۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں مہنگائی کی اوسط شرح 26 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فروری کی فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔
ن لیگ کو سادہ اکثریت ملتی تو ملک 2 سال میں بحران سے نکل سکتا تھا۔
اگلے 3 سال کے دوران ملک کی جی ڈی پی کی شرح 3 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 26 فیصد جب کہ 2025 میں15 فیصد تک اور 2026 میں 11.5 فیصد تک رہنے کی توقع
مارچ میں مہنگائی کی شرح 20.68 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
مہنگائی کی مجموعی شرح ریکارڈ 44 اعشاریہ 64 فیصد پر پہنچ گئی
بجلی کے بلوں نے کمر توڑ دی ، وزیراعظم ریلیف دیں ، تاجروں کی اپیل
براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 25 فیصد کمی سے 48 کروڑ ڈالر رہی ، ذرائع وزارت خزانہ
مہنگائی کی شرح اب بڑھ کر 10.87 فیصد ہوچکی ہے، ادارہ شماریات
فنانس ڈویژن نے مہنگائی، غربت اور بیروزگاری میں اضافے کی رپورٹس کی تردید جاری کر دی۔
ایک ماہ میں ٹماٹر 60 فیصد، انڈے 26 فیصد، ایل پی جی اور بجلی 13 فیصد، سبزیاں 11 فیصد اور آٹا 5 فیصد سستا ہوا۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ افراط زر کی کمر توڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ پیٹرول کی قیمت کم کر دیں جس کا اثر ہر جگہ پڑے گا۔
عوام مہنگائی پر عمران خان سے نالاں ہیں اور حکومت یہ ناراضگی جلد دور کرے گی ، وزیر ریلوے













