حفیظ شیخ کی عالمی بینک اور آئی ایم ایف سربراہان سے ملاقات
ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے حکومت نے اہم اقدامات اٹھائے، آئی ایم ایف رپورٹ
پاکستان اور آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کے درمیان مذاکرات 2 ہفتے تک جاری رہیں گے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 77 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا
آئی ایم ایف کے محتاج ہوں گے تو دنیا توجہ نہیں دی گی،وزیرخارجہ
وفد کی وزیر اعظم عمران خان، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کے علاوہ دیگر وفاقی و صوبائی حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
اگر حکومت ناکام ہوئی تو برآمدات میں 23 فیصد کمی لانا پڑے گی اور شرح نمو تو بالکل ہی رک جائے گی، ماہر معاشیات
جب حکومت سنبھالی تو ملک پر قرضہ 31 ہزار ارب روپے تھا جبکہ سر کلرڈیٹ 38 ارب روپے تھا، حفیظ شیخ
شیخ رشید احمد نے کہا کہ آٹا، گیس، چینی مہنگی ہونے کی وجہ سابق حکمران ہیں۔
پاکستان نے موجوہ مالی سال میں صرف چین سے 6 ارب 50 کروڑ ڈالر قرضے وصول کیے۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے چاند دیکھنے کے لیے ایپلیکیشن تیار کرنے کا اعلان کر دیا۔
معاشی مشکلات کو موجودہ حکومت نے پیدا نہیں کیا لیکن ان پر ان مشکلات کو سنبھالنے کی ذمہ داری ضرورعائد ہوتی ہے،خرم حسین
معاہدے میں روپے کی قدر میں فوری کمی نہ کرنے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا، ذرائع
آئی ایم ایف کے لوگ اس طرح آکر اسٹیٹ بینک میں بیٹھیں ہوں گے تو ہم کیا ملک چلائیں گے، آصف علی زرداری













