بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے آئی ایم ایف سے دوبارہ بات چیت کرے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 3 فروری سے شروع ہونے والا اجلاس 13 فروری تک جاری رہے گا۔
حکومت نے اخراجات کم اور محصولات کی وصولی میں اضافہ کیا جو قرض میں کمی کا سبب بنا
‘ایکس چینج ریٹ مستحکم ہونے کے باعث مہنگائی میں کمی ہو سکتی ہے‘
پاکستان میں افراط زر کی شرح میں ٹھہراؤ آگیا ہے، مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے، آئی ایم ایف مشن چیف
یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دیے گئے تمام معاشی اہداف کو حاصل کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ ہم جس معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 236 فیصد اضافہ ہوا۔
چار ماہ کے دوران محصولات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں سولہ سے سترہ فیصد اضافہ ہوا ہے
حکومت معیشت کی بہتری کے لیے اداروں کو مضبوط کررہی ہے،مشیر خزانہ حفیظ شیخ
مشیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ حکومتوں کے لیے گئے قرض میں سے 2.1 ارب ڈالر ادا کر دیے ہیں۔
مالیاتی خسارے میں پہلی سہ ماہی میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ مالیاتی خسارہ 1.5 فیصد سے کم ہوکر 0.7 فیصد پر آگیاہے۔
پہلے دن سے ہمارا نقطہ نظر ہے کہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج مولانا کا حق ہے، اسد عمر
حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آ گئی۔
پاکستان کےلئے قرضے کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظور دے دی جائے گی، ذرائع












