عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہیں، پاکستان بار کونسل
انہوں نے گزشتہ روز پاکستان بار کونسل سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا
فروغ نسیم نے پاکستان بار کونسل کو وکالت کا لائسنس بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔
بار کونسل کے رہنما عدالت کے سامنے فروغ نسیم کا وکالت نامہ معطل ہونے کا مؤقف پیش کریں گے
درخواست گزار تیاری کرکے نہیں آئے تھے اور عدالتی احکامات کی کاپی نہیں بھی ساتھ نہیں لائے تھے، ذرائع
’50 کروڑ روپے سے زائد نیب مقدمات والے ملزمان کو جیل میں سی کلاس دی جائے گی۔‘
شاہ محمود نے بتایا کہ فوجی عدالتوں کے لیے ایک آئینی ترمیم درکار ہے جس کے لیے پارلیمنٹ میں دوتہائی اکثریت چاہیے جو کسی جماعت کے پاس نہیں
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر بننے کے بعد فروغ نسیم بطور وکیل کام نہیں کر سکتے اور نا ہی پاکستان بار کونسل کے ممبر رہ سکتے ہیں





