سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ حکومت پاکستان میڈیا سے متعلق موجود قوانین پر عمل کرے ان پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا؟
محمد مالک نے کہا کہ حکومت غلط قوانین پاس کرے گی تو میڈیا ان کے خلاف آواز اٹھائے گی اور ہمیں امید ہے کہ اس موقع پر عدلیہ ہمارے ساتھ کھڑی ہو گی ورنہ اگلی باری عدلیہ کی بھی ہو سکتی ہے۔
صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ حکومت کسانوں کے لیے کسان کارڈ کا نیا پیکج لا رہی ہے جو ابتدائی طور پر تین اضلاع میں شروع کیا جائے گا۔
ایم کیو ایم رہنما کنور نوید جمیل نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ پیپلز پارٹی خود ہے۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور وہاں ترقیاتی کاموں کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
تجزیہ کار مشرف زیدی نے کہا کہ ایرانی جنرل کے واقعے کے بعد پاکستان اب مزید مشکل دور سے گزرے گا۔
محمد مالک نے کہا کہ چیئرمین نیب ہواؤں کا رخ بدلنے کے بجائے جو نیب کے قوانین بنانے ہیں وہ بنائیں۔
ماہر قانون نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ وکلا کے فیصلے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ماہر معاشیات نے کہا کہ شرح سود اگر کم نہیں ہوا تو ملک میں مزید مہنگائی بڑھے گی اور ہماری صنعتیں مکمل طور پر تباہ ہو جائیں گی۔
سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں کسی کا نام ڈالنا عدالت کا اختیار نہیں بلکہ حکومت کا اختیار ہے لیکن اس کے لیے حکومت کے پاس کوئی خاص وجہ ہونی چاہیے۔
سابق سیکرٹری داخلہ کے مطابق اطلاعات ہیں جو سیکرٹریز وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے قریب تھے انہیں تبدیل کیا گیا ہے۔
سینئر صحافی سعید قاضی نے کہا کہ عمران خان جزوی طور پر سچ بول رہے ہیں۔ تبدیلی صرف کیلنڈر میں ہی 70 سال سے ہو رہی ہے۔
سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ اسلام آباد میں 110 کے قریب جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز کام کر رہی ہیں جن کے پاس کوئی اجازت نامہ موجود نہیں ہے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ سال 2000 میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے دور سے پاکستان کی معیشت کو دانستہ طور پر سازش کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے۔
بیرسٹر افتخار احمد نے کہا کہ حکومت کو کم از کم ریکارڈ کے لیے نواز شریف کے فیصلے کے خلاف اپیل ضرور دائر کی جانی چاہیے۔














