وزیراعظم عمران خان مشن کشمیر کے حوالے سے آج بھی نیو یارک میں مصروف دن گزاریں گے ۔
کشمیر کے حوالے سے کئے گئے دعوے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو کابینہ اور پاکستانی قوم کے آگے جواب دہ ہونا پڑے گا ۔
اگر میرٹ پر نوبیل انعام دیا جائے تو میں اس کا حقدار ہوں، امریکی صدر
ملاقات مین ہیٹن میں واقع ہوٹل میں پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 سے ساڑھے 9 بجے کے درمیان ہوگی۔
پاکستان افغانستان میں دیرپا امن کے لئے کئے گئے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا ، وزیراعظم
وزیر اعظم عمران خان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔
وزیراعظم کا دورہ امریکہ 21 سے 28 ستمبر تک جاری رہے گا ۔
ایران کے مرکزی بینک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔امریکی صدر
وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں 19 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا ۔
’ہم اس غیر معمولی حرکت کی وجہ سے دکھی ہیں مگر ساتھ ہی اس بات کا اطیمنان ہے کہ اس سارے معاملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
امریکہ میں 30 لاکھ سے زائد بچے اس بری عادت کا شکار ہیں۔
مذاکراتی عمل کو لگے حالیہ دھچکے سے قیام امن کو کوششوں میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے جاتے ہی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی آئی ہے ۔
ستمبر2010 میں امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
واضح رہے دو ہفتے قبل بھی شمالی کوریا نے مشرقی ساحل پر دو مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا۔














