ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ ہم جس معاشی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔
عروج اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ حکومت بظاہر طلبا سے تعاون اور یونین کی بحالی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن وہی حکومت آواز اٹھانے والے طلبا پر بغاوت کے مقدمات بھی قائم کر رہی ہے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت بڑی جادوئی ہے ان سے جو ملتا ہے وہ انہی کا ہو جاتا ہے۔
تجزیہ کار ہما بقائی نے کہا کہ حکومت نے درست طریقہ کار اختیار کیا ہوتا تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔
راجہ عامر عباس نے کہا کہ اگر آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھائی گئی تو پھر فوج کے اندر ہی ایک اضطراب پیدا ہو جائے گا۔
تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو درست طریقے سے پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔
خواجہ نوید ایڈووکیٹ نے کہا کہ فروغ نسیم انتہائی قابل آدمی ہیں ان سے غلطی کی امید نہیں۔ ہو سکتا ہے حکومت نے فروغ نسیم سے مشاورت کے بغیر ہی فیصلہ کر دیا ہو۔
تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ نوٹیفکیشن کو اس طرح سے معطل کرنے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ممکن ہے سپریم کورٹ اس معاملے کو آگے بھی چلائے ورنہ عدالت کیس کو نمٹا دیتی۔
عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ عمران خان کے بڑے اور مشکل فیصلوں کی وجہ سے اب معیشت بہتر ہو رہی ہے۔
ماہر قانون بیرسٹر افتخار احمد نے کہا کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے علاوہ کوئی ادارہ کسی پارٹی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔
چیئرمین پاک سرزمین پارٹی نے کہا کہ میں یوسف ٹھیلے والے کے بیان کو درست نہیں سمجھتا۔
فاروق ستار نے کہا کہ میں نے ایم کیو ایم کو نہیں چھوڑا بلکہ ایم کیو ایم کے ٹھیکیدار بننے والوں نے مجھے باہر کیا۔
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ ہمارے ملک میں پیدا ہونے والی مشکلات کو ماضی میں قرضوں سے دور کیا جاتا تھا۔
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ ملک میں ہمیشہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کو نشانے پر رکھا گیا ہے۔
وزیر اعظم کےمعاون خصوصی نے کہا کہ احتساب کرنا اداروں کا کام ہے حکومت نے تو صرف ماحول اور وسائل فراہم کرنے ہیں۔














