فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ عمران خان تبدیلی لانے کے لیے یکسو ہیں اور انہوں نے اب تک جو بھی کرنے کی ٹھانی ہے وہ اس میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
نذیر لغاری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اگر حکومت سے الگ ہو جاتی ہے تو یہ اپنی عزت و آبرو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے ورنہ ان کا برا حال ہو گا۔
عامر خان نے کہا کہ ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں جس طرف توجہ نہ تو سندھ حکومت کی ہے اور نہ ہی وفاق کی۔
ماہر معاشیات اکبر زیدی نے کہا ہے کہ ایران پر مزید امریکی پابندیوں کا نقصان پاکستان کو نہیں ہو گا۔
خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان اس پوزیشن میں بھی نہیں ہے کہ وہ کسی کی طرفداری کر سکے۔
میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے ثابت کر دیا کہ اب انہیں کسی اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمان نے کہا کہ حکومت پارلیمانی نظام کے تحت سسٹم کو چلانے کی کوشش کرے۔
جاوید جبار نے کہا کہ میڈیا پر کئی ایک باصلاحیت اینکرز موجود ہیں اور میڈیا ذمہ داری کا بھی ثبوت دیتا ہے تاہم تجزیوں میں فرق کرنا انتہائی ضروری ہے۔
سینئر تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے جو اعلان کیا تھا وہ اس سے پیچھے ہٹ گئی جس کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید کوئی معاملات طے ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کے رویے میں بھی نرمی نظر آئی۔
سابق سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ ایران کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس نے انتہائی برے حالات میں بھی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔
ماہر معاشیات نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہونے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گے۔
علی زیدی نے کہا کہ سال 2020 کی پہلی سہہ ماہی میں کراچی کے لیے بہت اچھے پیکج کا اعلان کروں گا۔
ڈاکٹر سید جعفر احمد نے کہا کہ قائد اعظم نے اپنی سیاست کا آغاز ہندو مسلم سفیر کی حیثیت سے کیا اور کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست کی تاہم بعد میں انہوں نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے آزاد وطن کے لیے جدوجہد کا آغاز کیا۔
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ نیب کے پاس اگر ثبوت نہیں ہیں تو وہ لوگوں کی عزت سے نہ کھیلیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مسئلہ حکومت کا نہیں ہے اور وہ اس کے ٹھیکیدار بننے کی بھی کوشش نہ کریں یہ معاملہ پارلیمنٹ نے طے کرنا ہے اور وہی طے کرے گی۔














