آج بھارت میں مسلمان، بنگالی اور دلتوں سمیت کوئی محفوظ نہیں، وزیرخارجہ
حریت رہنماؤں کی کشمیریوں سے گھروں، دکانوں اور دیگرعمارتوں پر سیاہ پرچم لہرانے کی اپیل
ہندوتوا نظریے اور اکھنڈ بھارت ڈیزائن کا امتزاج علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، عمران خان
مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کے اعلان کے بعد بھارتی انتظامیہ نےغیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا۔
ہمیں یاد ہے کہ 25 جولائی کو کس طرح ملک میں سلیکشن کرائی گئی، چیئرمین پیپلز پارٹی
مقبوضہ وادی میں مودی سرکار نے گزشتہ پانچ ماہ سے غیر جمہوری اقدامات کے بعد ظلم کی انتہا کر رکھی ہے ۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ دوطرفہ مذاکرات سے اب یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا کشمیریوں کو شامل کر کے مسئلہ کشمیر پر سہہ فریقی مذاکرات ہونے چاہیں۔
سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر دنیا بھر کے انسانی حقوق کی اداروں کو نوٹس لینا چاہیے۔
پارلیمان کو بلڈوز کر کے دو انتہائی متنازع قوانین پاس کئے گئے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ پاکستان، کشمیریوں اور مسلم امہ نے واضح طور پر قانون اورا نصاف کے اس تمسخر کو مسترد کردیاہے۔
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کشمیریوں کی حمایت میں 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر پیغام جاری کیاہے۔
مولانا فضل الرحمان 27 اکتوبر کو سکھر سے نکلنے والے قافلے کی قیادت کریں گے۔سندھ میں ذمہ داری پاکستان پیپلزپارٹی کو سونپ دی گئی ہے۔
ماڈل ٹاون میں ہونے والے اجلاس میں آذادی مارچ کی تیاریوں کے حوالے سے بھی تجاوز پر غور کیا گیا
27 ستمبر بروز جمعہ کو ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
یوم سیاہ کے حوالے سے اسلام آباد اور آزاد کشمیر سمیت ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔














