بھارتی ریاست بہار کے ضلع سیوان میں ہجوم نے 56 سالہ مسلمان نسیم قریشی کو پکڑ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہ اسپتال پہنچ کر جاں بحق ہو گئے۔
یہی حقیقت و سچ ہے جسے کوئی بھی بدل نہیں سکتا ہے۔ موہن بھاگوت
الوار کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے سیاسی وجوہات کے باعث حقیقی قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا تھا
واقع کی اطلاع ملتے ہی شہر کے حالات سخت کشیدہ ہو گئے لیکن پولیس کمشنر کی بروقت مداخلت کے باعث صورتحال میں قدرے بہتری آئی ہے۔
مولانا آزاد، جواہر لال نہرو، سردار بھائی پٹیل اور باپو نے مسلمانوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ہجومی تشدد کا واقعہ ریاست بہار کے ضلع سارن کے علاقے بنیا پور میں پیش آیا ہے جس کے بعد سے علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی ہے۔
لا کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے این متل نے وزیراعلیٰ یوگی کو تجویز پیش کی ہے کہ ہجومی تشدد پہ یقینی روک لگانے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ ازحد ضروری ہے۔






