صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے عالمی ادارہ برائے صحت کی ٹیم ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی پہنچ گئی ہے۔
ملک بھر میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 18 ہو گئی۔
پمز میں گزشتہ دو ماہ میں ڈینگی کے 5000 مشتبہ مریض لائے گے ہیں۔
ناکافی اقدامات کے باعث ہر گزرتا دن مریضو کی تعداد میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
اسلام آباد: اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی مچھروں کے شہریوں پر حملے جاری ہیں۔ راولپنڈی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے…
رپورٹ کے مطابق رواں برس سندھ میں 1998 مصدقہ ڈینگی کیسز سامنے آ چکے ہیں،-بلوچستان کے کیسز کی تعداد 1722 جبکہ پنجاب سے 1706 مصدقہ ڈینگی کے کیس سامنے آئے ہیں۔
پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں مستقلاً اضافہ ہورہا ہے۔
نشتر اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ڈینگی سے بچاؤ کے انتہائی ناقص انتظامات کئے گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج جڑواں شہروں میں 147، ملتان میں ڈینگی کے تین نئے کیسزسامنے آگئے ۔ خیبرپختون خوا میں متاثرہ افراد کی تعداد گیارہ سو جبکہ کراچی میں سترہ سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال میں روزانہ 200 سے 400 مریض لائے جا رہے ہیں۔
گزشتہ روز بھی 19 سالہ نوجوان جناح اسپتال میں نگلیریا کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔ رواں سال مہلک جرثومے سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی ہے۔
سندھ میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد اٹھارہ سو سے زائد ہے۔ خیبرپختون خوا میں ڈینگی کے 77نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے وہاں مریضوں کی کل تعداد 1036 تک پہنچ گئی ہے۔
پورے ملک میں اب تک دوہزار135 افراد ڈینگی کا شکار ہوچکے ہیں۔ دس افراد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔
راولپنڈی میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 88 شہری ڈینگی بخار کا شکار ہوئے۔ ضلع بھر میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1580 ہوگئی۔
ڈینگی کے مرض میں مبتلا افراد میں سے 67 کا تعلق راولپنڈی سے ہے









