حکومتی اقدامات تاحال اس حوالے سے زیادہ کارگر و مؤثر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔
اسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں دی جارہی ہیں۔ ڈاکٹر اللہ بخش ملک
‘ جڑواں شہر میں کیے گئے موثر اقدامات کی وجہ سے ڈینگی کی صورتحال قابو میں ہے۔‘
صرف پمز اسپتال میں گزشتہ رات سے اب تک ڈینگی کے 780 مشتبہ مریض لائے گئے ہیں۔
حکومتی اقدامات تاحال ڈینگی کی روک تھام میں ناکافی دکھائی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں، ان کے عزیز و اقارب اور عوام الناس میں تشویش پائی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے تاریخی غلطی کی ہے اور اب وہ یہاں پھنس گیا ہے۔
ملک بھر میں ڈینگی کے باعث 31 اموات واقع ہو چکی ہیں۔
محکمہ صحت کی جانب سے خطہ پوٹھوہار کو ڈینگی کے لیے خطرناک ترین قراردیا گیا ہے۔
راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کمشنر کو خط ارسال کردیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں ڈینگی کے خطرناک حد تک پھیلاؤ کی تحقیقات کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پنجاب میں 199، سندھ میں 91 اور خیبر پختونخوا میں 114 نئے کیسز سامنے آگئے
‘مغرب کی آنکھیں شائد نہ کھلیں لیکن وزیراعظم کو کھل کر بولنا چاہیے’
عثمان بزدار نے کہا ہے کہ ڈینگی لاروا کی سرویلنس کے بارے میں غلط رپورٹنگ برداشت نہیں کی جائے گی۔
صوبائی وزیر صحت عذرہ پیچوہو نے کہا ہے کہ سندھ میں ایڈز کے مرض میں کمی آ رہی ہے اور لوگ اب ٹیسٹ کرانے آ رہے ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ڈینگی پر سیاست نہ کرنے کی اپیل کردی۔











