حکومت اور پیپلز پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے الگ الگ نام دے دیے
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد حکومتی ٹیم نے بابر یعقوب کا نام واپس لینے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اجلاس میں شیریں مزاری، اعظم سواتی، پرویز خٹک نصیب اللہ بازئی، مشاہد اللہ خان، شیزا فاطمہ خواجہ ڈاکٹر سکندر مہندرو راجہ پرویز اشرف اور شاہدہ اختر علی شریک ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر اور دو اراکین کی نامزدگی پر حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان مذاکرات نہیں ہوسکے ہیں اور پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلوایا جا سکا ہے۔
حکومت تجویز کردہ نام پہ ڈٹ گئی جب کہ اپوزیشن نے ماننے سے انکار کردیا۔
اگر سلیکٹڈ وزیراعظم اپنا چیف الیکشن کمشنر لانے پہ بضد رہے تو اس کے معنی ہوں گے کہ ملک میں پھر کوئی عہدہ غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ زاہد خان
چیف الیکشن کمشنر آپ کا، دو ممبران ہمارے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش
تبدیلی کے نام پر عوام کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ذرائع ابلاغ سے بات چیت
چیف الیکشن کمشنر اوراراکین کی تعیناتی کا معاملہ جلد حل ہوجائے گا۔ چیئرمین سینیٹ
آصف علی زرداری کی ضمانت کے لیے دائر کی گئی درخواست کسی ڈھیل کا حصہ نہیں ہے۔ پی پی رہنما کی پریس کانفرنس
حکومت کچی پرچی پر پکا کام کرنا چاہتی ہے جو ممکن نہیں ہے۔ پی پی پی رہنما کی پریس کانفرنس
چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ خالی ہونے سے بحران نہیں آئینی خلا پیدا ہو گا جس کی ذمہ داری شہباز شریف پر ہو گی، بابر اعوان
درخواست پر اپوزیشن کے 11 ارکان کے دستخط موجود ہیں جس میں الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے
سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال 19 نومبر کو دن ایک بجے ان چیمبر سماعت کریں گے۔
پیپلزپارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کے تعینات کردہ دو ممبران سے حلف نہ لے کر اچھاکیا، الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری پر ڈیڈ لاک موجود ہے۔













