فاٹا سینیٹرز کی کچھ دیر میں وزیراعظم سے ملاقات شروع ہو گی جس میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے خلاف حمایت کی درخواست کی جائے گی
حکومت نے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے مشاورت شروع کر دی۔
میر حاصل بزنجو سینیٹ کی بزنس ایڈوائزی کمیٹی، قانون اور انصاف، آبی ذرائع، خزانہ، مجوزہ قانون سازی اور ایوی ایشن کی کمیٹیوں کے رکن بھی ہیں ۔
سئینر تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہا کہ حاصل بزنجو کے نام پر اتفاق کا امکان موجود ہے
پی ٹی آئی رہنما سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ہم سینیٹرز سے رابطے میں ہیں
حکومت کی طرف سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی حمایت کے لئے اپوزیشن ارکان سے رابطے جاری ہیں۔
ملاقات کرنے والے تمام سینیٹرز نے چئیرمین سینیٹ کو اپوزیشن کی طرف سے جمع کرائی گئی قرارداد کے خلاف مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر نے کہا کہ اگر ویڈیو درست تھی تو مسلم لیگ نون کو پہلے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھے۔
متحدہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لئےاجلاس بلانے کی ریکوزیشن آج جمع کرائی جائے گی۔
ذرائع نے دعوی کیاہے کہ چیئرمین سینیٹ کے نام پر اپوزیشن کسی ایک نام پر متفق ہوجائیگی۔
حزب اختلاف کے اندر بھی اتنا اتحاد نہیں ہے جتنا نظر آتا ہے ، تجزیہ کار عامر ضیاء۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی اپنے پہلے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، سیاسی جلسوں اور ملکی معاشی صورتحال پر غور کرے گی۔
مولانا فضل الرحمن اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے اپنے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔
نئے چیئرمین سینیٹ کے لیے مہم شروع کر دی گئی۔
104 رکنی ایوان میں سینیٹرز کی موجودہ تعداد 103 ہے۔ چیئرمین کی نشست کے لیے53 ارکان کی حمایت درکارہے۔













