پارلیمان کو کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا، اس کا فیصلہ تمام اداروں کو قابل قبول ہونا چاہئے۔
ڈاکٹرز کے مشورے پر فضل الرحمان نے تمام سیاسی سرگرمیاں منسوخ کر دی ہیں۔عبدالغفور حیدری
عدم اعتماد لانے اور قومی اسمبلی اجلاس کی ریکوزیشن دونوں پر غور ہورہا ہے۔سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ
حکومت کی اتحادی جماعتوں سے رابطے کریں گے اور درخواست کریں گے کہ وہ اتحاد ختم کریں، مولانا فضل الرحمان
عمران خان صرف اپنے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔ وہ وضاحت کریں خطرناک ہونے کی بات کس کے لئے تھی۔
اجلاس میں لانگ مارچ کی تیاری اور خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر غور
حکومت مخالف مہم کے لیے تمام آپشنز کھلے ہیں، رہنما پی ڈی ایم
استعفوں کے آپشن کو قبول نہ کرنا حکومت کی مدد کرنے کے مترادف ہے، سربراہ پی ڈی ایم
پی ڈی ایم میں واپس نہ جانے کے موقف پر قائم ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں واپسی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے عشائیے میں آصف زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان کو مدعو کیا
گروپ ایڈمن احسن اقبال نے یوسف رضاگیلانی، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور اے این پی کے میاں افتخار کو واٹس ایپ گروپ سےنکال دیا ہے۔
اپوزیشن سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز…
مولانا فضل الرحمان آئندہ کی حکمت عملی اور احتجاجی تحریک پر مشاورت کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان کی طبیعت بہتر ہونے پر پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی کو 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔














