عدلیہ کو بدنام کرنے کے ماسٹر مائنڈ فروغ نسیم ہیں، پاکستان بار کونسل
اٹارنی جنرل انور منصور کو حکومت کی جانب سے استعفی دینے کا کہا گیا تھا۔ ترجمان وزارت قانون
حزب اختلاف کی جماعتیں اور تمام منتخب عوامی نمائندے ان قوانین کے خلاف آواز اٹھائیں، اعلامیہ
سابق وزیر قانون کی جگہ ایڈوکیٹ یاسین آزاد کو تعینات کیا گیا ہے
فروغ نسیم نے پاکستان بار کونسل کو وکالت کا لائسنس بحال کرنے کی درخواست کی تھی۔
بار کونسل کے رہنما عدالت کے سامنے فروغ نسیم کا وکالت کا لائسنس معطل ہونے کا مؤقف پیش کریں گے۔
صدر سپریم کورٹ بار امان اللہ خان کنرانی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کھلی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔
اٹارنی جنرل انور منصور خان گزشتہ اجلاس میں نوٹس نہ ہونے کی بنا پر شریک نہیں ہوئے تھے۔
پاکستان بار کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی، جسٹس کے کے آغا کیخلاف ریفرنس کے تناظر میں دو جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا
اٹارنی جنرل انورمنصور نے بطورچیئرمین پاکستان بارکونسل وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف قرارداد اورشوکاز نوٹس معطل کردیا۔
پاکستان بارکونسل اور سپریم کورٹ بار نے ہڑتال اورعدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے ۔
لاہور بار نے 14جون کو ہڑتال اور احتجاج کے خلاف متفقہ قرارداد بھی منظور کرلی
امان اللہ کنرانی نے بلاجواز اعلان کئے ہیں، وکلاء سپریم جوڈیشل کونسل کے ساتھ کھڑے ہیں۔
8 اور 9 جون کو اجلاس کے دوران ججز کے خلاف دائر ریفرنس پر لائحہ عمل تیار کیا جائے گا، اعلامیہ۔
اسلام آباد:نئی عدالتی پالیسی کے معاملے پر ملک بھر کی بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کی چیف جسٹس…













