بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ منفی اپروچ کے ساتھ بھی کوششیں کی گئیں۔، سابق وزیر خزانہ
پاکستان کے ساتھ پروگرام جون 2023ء تک جاری رہے گا، آئی ایم ایف
قطر پاکستان میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، مفتاح اسماعیل
وزیر خزانہ کا وعدہ تھا کہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔صدر آل پاکستان انجمن تاجران
آئی ایم ایف کی تمام شرائط ہم نے پوری کر دیں، وہ بھی درآمدات پر پابندی ختم کرانا چاہتا ہے۔
عمران خان نے آئی ایم ایف سے وعدہ توڑا تو کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھا۔
بجلی کے بلوں میں فکس سیل ٹیکس واپس نہ ہوا تو وزارت خزانہ کا گھیراؤ کریں گے، آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ کا پریس کانفرنس سے خطاب
نظر ثانی شدہ اسکیم کو جلد ہی متعارف کرایا جائے گا۔
سیاسی صورتحال میں استحکام کے ساتھ مزید سرمایہ کاری ملک میں آئے گی۔
عمران خان کام نہیں صرف باتیں کرتے تھے۔ اب شہباز شریف کی حکومت سولر ٹیوب ویل بھی لگوا رہی ہے۔
آئی ایم ایف کو پیٹرولیم مصنوعات سستی کرنے پر اعتراض نہیں ہے اور پوری قوم نے مشکل فیصلوں میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔
پاکستان کو طلب اور رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنا ہو گا، آئی ایم ایف
ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچالیا، استحکام کیجانب گامزن ہیں۔
ایف بی آر نے تاریخی ٹیکسز اکٹھے کیے جبکہ ایک ماہ میں 580 ارب روپے کا وصولیوں کا ریکارڈ تھا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان ایک اور ساتھی نے کرنا تھا۔













