ملزم کسی ذہنی یا نیورولوجیکل بیماری میں مبتلا نہیں ہے۔
مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی
بیس جولائی 2021 کو نورمقدم کو اسلام آباد میں قتل کیا گیا تھا۔
کیس سے جان چھڑانے کیلئے ذہنی بیماری کا عذر بعد میں پیش کیا گیا، فیصلہ
عدالت نے سی سی ٹی وی ویڈیو فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
نور مقدم کو گھر کی پہلی منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
نور مقدم نے شادی سے انکار کیا تو اسے زبردستی کمرے میں بند کر دیا تھا، ملزم
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد سہیل نے درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
ملزمان ذاکر جعفر اور انکی اہلیہ کے وکلاء نے ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دیتے ہوئے مختلف کیسوں اور فیصلوں کا حوالہ دیا۔
پولیس حکام نےملزم ظاہر جعفر کا طبی معائنہ کرانے کے بعد اسے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا ہے۔
نور مقدم نے جان بچانے کے لیے فرسٹ فلور سے چھلانگ لگائی تو ملازم نے مداخلت نہیں کی
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں نور مقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی
ایس ایس پی انوسٹی گیشن کی جانب سے اجلاس کو مقدمہ کی پیشرفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ







