ندیم افضل چن نے کہا کہ حکومت نے عوام کے تحفظ کے لیے مکمل تیار کر رکھی ہے اور ہماری کوشش ہو گی کہ ہم پہل نہ کریں۔
زرتاج گل نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست ختم ہو گئی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ابو بچاؤ اور کرپشن بچاؤ کے لیے حزب اختلاف نکلی ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری بھی جلسے میں شریک ہوں گے اور اگر شریک نہیں ہوئے تو وہ قوم کو جواب دہ ہوں گے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر عدالت اینکرز کو بلاتی ہے تو اس میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سینئر سیاستدان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے 10 سے 15 لوگ عدم اعتماد کے لیے تیار ہیں اور وہ کسی وقت بھی سامنے آ سکتے ہے۔
حسین نواز نے کہا کہ پارٹی اس بات پر متفق ہے کہ نواز شریف جو فیصلہ کریں گے اسی پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ موجودہ حکومت احتساب نہیں کر رہی بلکہ اپنی ذہنی تسکین حاصل کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کام لیا جا رہا ہے۔
علی نواز اعوان نے کہا ہے مولانا فضل الرحمان واضح پیغام لے کر اسلام آباد آئیں ہم نہیں روکیں گے۔
پرویز خٹک نے کہا کہ ملک کے حالات خراب کرنے والوں کے پیچھے جو ہاتھ ہیں ہماری کوشش ہے کہ ان ہاتھوں کو کامیاب ہونے سے روکیں۔
عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ اس وقت چین کے ساتھ سی پیک میں ہماری سب سے زیادہ توجہ ایم ایل ون کا منصوبہ ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کا اعلان نہیں کیا ہوا لیکن اگر وہ دھرنا دیں گے تو ہم اس کا بھی حصہ بنیں گے۔
رہنما جے یو آئی ف نے کہا کہ ہم اپنا آزادی مارچ لے کر پر امن طریقے سے ڈی چوک آئیں گے لیکن اگر حکومت نے کوئی مسئلہ کھڑا کرنے کی کوشش کی تو پورا ملک جام کر دیں گے۔
ناز بلوچ نے کہا ہے کہ پنجاب کے لوگ تو سب سے زیادہ نکلیں گے کیونکہ وہاں کی گورننس کا بیڑہ غرق کر دیا گیا ہے۔
حسن نثار نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال انتہائی خراب ہے اس سے زیادہ خراب صورتحال ہو نہیں سکتی۔
احسن اقبال نے کہا کہ شہباز شریف کی پارٹی سے صدارت سے علیحدگی کی تمام خبریں غلط ہیں۔














