حسن نثار نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال انتہائی خراب ہے اس سے زیادہ خراب صورتحال ہو نہیں سکتی۔
میاں شہباز شریف 16 اکتوبر 2019 کو مولانافضل الرحمان سے ملاقات کریں گے جس میں انہیں حکمت عملی کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔
احسن اقبال نے کہا کہ شہباز شریف کی پارٹی سے صدارت سے علیحدگی کی تمام خبریں غلط ہیں۔
جرگہ میں شامل تمام عمائدین نے مولانا فضل الرحمان کو آزادی مارچ میں شرکت کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔قبائلی رہنماؤں نے جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ سے ملاقات میں آزادی مارچ میں بھرپور شرکت کا وعدہ بھی کرلیا۔
سندھ میں صوبائی حکومت آزادی مارچ کے شرکا کو سہولتیں دے رہی ہے جب کہ جے یو آئی لاڑکانہ ہمارے خلاف سازشیں کررہی ہے۔ پارٹی چیئرمین سے شکوہ
گورنر سندھ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو خود بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ احتجاج کیوں کر رہے ہیں۔
چوہدری برادران نے حکومت کو آزادی مارچ کے حوالے سے دانش مندی کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دے دیا، ذرائع
‘مولانا کا دھرنا بلاجواز ہے۔ ‘
مارچ 28 اکتوبر کوسکھر سے براستہ گھوٹکی پنجاب میں داخل ہوگا، ذرائع
سینئر صحافی زاہد حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی میدان میں اچھا کھیل رہے ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سارے کاروباری افراد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پارٹی اجلاس کے حوالے سے میڈیا پر مختلف خبریں چلائی گئیں۔ صرف پارٹی صدر، جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات پارٹی کا پالیسی بیان دے سکتے ہیں۔
‘مولانا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دھرنا دیں حکومت ان کا ساتھ دے گی۔’
ثابت ہوگیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مارچ کشمیریوں کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ چوروں کی آزادی کےلیے ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یہ بات آج وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں کہی ہے ۔














