حکومت ہوش کے ناخن لے اور مولانا فضل الرحمان کو احتجاجی دھرنے کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دے۔ محمد حسین محنتی
ترجمان کے پی حکومت نے کہا کہ وفاقی سطح پر بننے والی کمیٹی جے یو آئی سمیت اپوزیشن کے مرکزی رہنماؤں سے رابطے کرچکی ہے۔مولانا فضل الرحمان ملک کے معاملات کو ٹھیک کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔
27 اکتوبر سے اسلام اباد کی طرف آنے والے تمام راستے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ذرائع
حکومت فضل الرحمان کو گرفتار کرکے ہیرو بنانا نہیں چاہتی، شبلی فراز
جسٹس امیر بھٹی کل آزادی مارچ روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کریں گے
حکومت سے بات چیت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کرے گی۔ میاں افتخار حسین
پاکستان پڑوسی ملک پر حملہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے لیکن سرحد پار رہنے والی مسلمان آبادی کے حوالے سے سوچتا ہے۔ پریس کانفرنس
ملاقات میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے حوصلے بلند تھے۔ پی ایم ایل (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا دعویٰ
سیاسی حلقے ہونے والی ملاقات کو اس لحاظ سے اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں کہ ق لیگ موجودہ حکمراں جماعت پی ٹی آئی کی اتحادی ہے۔
مولانا فضل الرحمان چوہدری برادران کے گھر ملاقات کے لیے جائیں گے۔
مولانا آوٹ ہونے کے باوجود بضد ہے، پی ٹی آئی رہنما
’آزادی مارچ میں پی ٹی ایم بھی شریک ہوگی‘
امیر جے یو آئی کے ہمراہ اکرم خان درانی بھی ہیں جب کہ مولانا عبدالغفور حیدری پہلے ہی لاہور پہنچ چکے ہیں۔
پرویز خٹک نے کہا کہ ملک کے حالات خراب کرنے والوں کے پیچھے جو ہاتھ ہیں ہماری کوشش ہے کہ ان ہاتھوں کو کامیاب ہونے سے روکیں۔
وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔













