گوجرانوالہ پہنچنے پر آزادی مارچ کے شرکا کو مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی توفیق بٹ کی جانب سے حلوہ اور نان پیش کیا گیا۔
زرتاج گل نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست ختم ہو گئی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ابو بچاؤ اور کرپشن بچاؤ کے لیے حزب اختلاف نکلی ہے۔
دینا میں کرپشن کے خلاف لانگ مارچ ہوتے ہیں لیکن یہ عجیب مارچ ہے کہ احتساب کا عمل روک دو۔ وفاقی وزیر
نواز شریف سے ملاقات کی بہت خواہش تھی تاہم ان کی خرابی طبیعت کے باعث ملاقات نہیں ہو سکتی، مولانا فضل الرحمان
ہم آزادی مارچ کر رہے ہیں، کوئی دھرنا نہیں ہے، یہ ایک تحریک کا نام ہے، جے یو آئی (ف) کے سربراہ
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران کی حکومت نے جو مہنگائی اور لاقانونیت دی ہے اس سے نجات کے لیے نکلے ہیں۔
مائزہ حمید نے کہا کہ میں ہم نیوز کے توسط سے قوم سے درخواست کرتی ہوں وہ نواز شریف کی صحت کے لیے دُعا کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رضا کار از خود بسوں، کاروں اور گاڑیوں میں سوار شرکا کو لاہور کے داخلی راستوں پر کھانوں کے پیکٹ فراہم کریں گے۔
تمام اسپتالوں کے ڈاکٹرز اور عملے کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان اور آزادی مارچ کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت ملتوی
طے شدہ پروگرام کے مطابق شرکائے قافلہ صبح ملتان سے روانہ ہوں گے اور رات کو لاہور میں داخل ہوں گے۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اگر کسی معاملے پر عدالت اینکرز کو بلاتی ہے تو اس میں حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انصار الاسلام نے پابندی کے باوجود کھلا عام قانون کی خلاف ورزیاں شروع کر دیں۔
کسی ڈنڈا بردار فورس کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد نہیں جانے دیں گے، صوبائی وزیر اطلاعات
‘نواز شریف علاج کے لیے بیرون ملک نہیں جائیں گے۔‘














