ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مارچ کے شرکا کا کوئی خاص ایجنڈا نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان سن لے یہ تحریک، یہ سیلاب آگے بڑھتا جائے گا اور تمھیں اٹھا کر باہر پھینک دے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے رہبر کمیٹی کے فیصلوں اور تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مفاہمت سے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں وہ اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ معیشت کو 6 ماہ میں ٹھیک کرنے کا دعویٰ کرنے والے عوام کو بتائیں کہ معیشت کا برا حال انہی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
ڈی چوک ہماری منزل نہیں ہے, ہم حکومت گرا کر خود انتظام سنبھالیں گے، مولانا فضل الرحمان
عامر ضیا نے کہا کہ اگر کسی بھی مجمعے کی خواہش پر حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو یہ سلسلہ چل پڑے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ڈی چوک ہماری منزل نہیں ہے ہم حکومت گرا کر خود انتظام سنبھالیں گے۔
سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ جلسے کے شرکا کو کوئی ڈی چوک جانے سے نہیں روک سکے گا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی کشتیاں جلا کر اسلام آباد آئے ہیں۔
آزادی مارچ کے شرکا کو ہدایت کی گئی ہے کہ میڈیا سے بات نہ کریں
’مولانا فضل الرحمان نے کشتیاں جلا چکے ہیں‘
ملکی امن کو کسی صورت نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
بلاول بھٹو زرداری نے شرکت کی دعوت قبول کرلی۔ شہباز شریف سے رابطہ نہیں ہوسکا ، احسن اقبال نمائندگی کریں گے۔
جس نے اپنے خیموں میں جانا ہے وہاں جائیں جس نے قریب گھر جانا ہے وہاں جائیں، اسٹیج سے اعلان













