اسلام آباد: ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مارچ سیاسی سرگرمی…
مولانا فضل الرحمان نے 12 ربیع الاول کو جلسہ گاہ میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔
95 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کا نتیجہ پولنگ ایجنٹس کے دستخطوں کے بغیرجاری نہیں کیا، الیکشن کمیشن
مدرسہ میں زیر تعلیم بچے اب بورڈ امتحان دیں گے، شفقت محمود
میزبان عامر ضیا نے کہا کہ دھرنے نے ہر کسی کو مشکل میں ڈال دیا ہے مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
عدالت عالیہ میں کیس کی سماعت کے دوران وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقاریر سے لوگوں کو اکسا رہے ہیں، ملک انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے،
گورنر پنجاب نے کہا کہ اجتجاجی دھرنے کے معاملے پر حکومت کی مذاکراتی ٹیم کام کر رہی ہے اور جلد مثبت پیش رفت ہو گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ایسی صورتحال میں گزشتہ سال جو گزرا ہے وہ یومیہ بنیاد پر انحطاط کا شکار ہوا ہے ۔ ہمارے قرضے یومیہ بنیادوں پر بڑھے ہیں۔ انہیں جتنا وقت مزید ملے گا ہم مزید نیچے جاتے چلے جائیں گے۔
تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفی بھی تو آئینی آپشن ہے۔ امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان
صدر پی ٹی آئی پنجاب نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا خاتمہ ہو چکا ہے یہ پرانی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔
حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آ گئی۔
کل جماعتی کانفرنس کے دوران حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دور شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا، ذرائع
پارٹی آزادی مارچ کی مکمل حمایت کرے گی لیکن دھرنے میں شریک نہیں ہوگی، ذرائع
مولانا نے سوچا کہ آصف علی زرداری جیل میں ہیں اور نواز شریف اسپتال میں تو کیوں نہ میں لیڈر بن جاؤں، شہریار آفریدی
مولانا کی تقریروں سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے، درخواست گزار













