حملہ آوروں نے مدرسے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور جاتے ہوئے پیٹرول بم بھی پھینکے۔
جاں بحق اور زخمیوں میں بچے اور عام شہری شامل ہیں۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کردیے ہیں۔
مدرسے والوں نے اطلاع دی کہ میری بیٹی بیہوش ہے آکر لے جائیں، والدہ کا مؤقف
مدرسہ، منبر، مساجد، امام بارگاہیں، گرجا، مندر اور تعلیمی ادارے دہشت گردوں کا نشانہ ہیں۔
مدرسے میں زیر تعلیم ایک طالبعلم بھی زیر تفتیش، رپورٹ
90 زخمی اسپتالوں سے فارغ کر دیئے گئے اور 6 کا علاج ایل آر ایچ میں جاری ہے
حکومت کو ممکنہ دہشت گردی کی اطلاع تھی لیکن افسوس کہ حکومت بروقت اقدامات نہیں کرسکی، امیر جماعت اسلامی پاکستان کی ذرائع ابلاغ سے بات چیت
ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں کے مذموم عزائم خاک میں ملائیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
کم سے کم پانچ کلو بارودی مواد میں چھروں اور کیلوں کااستعمال کیا گیاجس سے نقصان زیادہ ہوا، اے آئی جی
ہم نیوز کے مطابق دھماکہ صبح آٹھ بجے اس وقت ہوا جب معلم اور طلبہ درس و تدریس میں مصروف تھے
مدرسے کی چھت اور دیواریں کچی مٹی سے تعمیر کی گئی تھیں اور لوگوں بیلچوں کی مدد سے ملبہ ہٹایا
ملزم کو تین دن تک پناہ دینے والوں کو بھی شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے، انچارج پراسیکیوٹر
ڈی آئی جی نے بچے کے والد کو یقین دہانی کرائی کہ مرکزی ملزم کو جلد گرفتار کرکے عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
پولیس تین مختلف تھانوں کی حدود سے تعلق رکھنے والے طلبا کی بازیابی میں تاحال ناکام ثابت ہوئی ہے۔














