سو شیل کمار کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ملزم کو بیٹا پیدا نہ ہونے کا رنج تھا، پولیس
ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس
قتل ہونے والے چاروں افراد میں میاں بیوی اور دو بچے شامل ہیں۔
ترجمان لاہور پولیس کے مطابق زیادہ تر قتل کی وارداتیں لین دین کے تنازع پر ہوئیں۔
جب یہ افسوسناک سانحہ پیش آیا اس وقت والدین گھر پہ موجود نہیں تھے اور بچے نوکرانی کے سپرد تھے، پولیس
خواتین صحافیوں کو اس قت نشانہ بنایا گیا جب وہ ٹی وی اسٹیشن سے اپنے گھروں کو واپس جارہی تھیں۔
مرنے میں والوں میں مفتی اکرام اس کا13سالہ بیٹا اور ایک شاگرد شامل
رجائی شہر کی جیل میں زہرہ اسماعیلی کے ساتھ16 دیگر افراد کو بھی پھانسی دی گئی
جاں بحق افراد میں 3 خواتین بھی شامل ہیں
یو ٹیوب چینل کے لیے ڈکیتی کی پرینک ویڈیو بنانا نوجوان کو مہنگا پڑ گیا۔
بھارت کی مقامی عدالت نے گرفتار ملزم کا ریمانڈ دے دیا ہے۔
جنوری 2021 میں بے لگام ڈاکوؤں نے مزاحمت پر آٹھ افراد کو قتل اور 48 کو گولیاں مار کر زخمی کردیا۔
ملزم نے تمام خواتین کو تیز دھار آلے کے ذریعے قتل کیا، پولیس
بچوں کی عمریں 5سے12سال کے درمیان ہیں۔ تمام نعشیں گھر کے ایک کمرے سے ملی ہیں













