رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والد نے دونوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا
انسانی حقوق کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ملک میں خواتین کےخلاف جرائم میں اضافہ ہوا
پولیس نے پچیس سالہ جویریہ کو غیرت کے نام پر قتل کرنیوالا باپ عبدالغفور، بھائی عبدالشکور اور اقبال کو گرفتار کرلیا
پولیس ذرائع کے مطابق مقتولہ کو پسند کی شادی کرنے پر غیرت کے نام پر قتل کروایا گیا۔
پولیس نے 20 جولائی سے لاپتہ لڑکی کی لاش برآمد کرلی
لڑکیوں کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا اور وہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کی وجہ سے شمالی وزیرستان کے علاقے شام پلین گڑیوم منتقل ہوئی تھیں
رحیم یار خان کے تھانہ کوٹ سمابہ پولیس موقع پر پہنچ گئی،لاشیں اسپتال منتقل کرکے قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔
والدین نے عدالت سے ملزمان بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی
439 ملزمان کی قتل کے درج مقدمات میں نامزدگی اور 400 کی گرفتاری کے باوجود صرف دو فیصد کو قانون کے مطابق سزا ہوئی۔
ملزم اجمل نے اپنی ساس ، بیوی اور ایک خاتون کو قتل کرکے گھر کو آگ لگادی
مقتولین نے چند سال قبل پسند کی شادی کی تھی جس کے بعد لڑکی کے ورثاء اور رشتے داروں نے لڑکی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا
تونسہ پولیس کے مطابق لڑکی کے چچا اور بھائیوں نے کہلاڑیوں کے وار کرکے دونوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا۔











