لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کیلئے تعلیم ضروری ہے اور شعور کے بغیر جنسی تقسیم کو ختم نہیں کیا جا سکتا، سیمی جمالی
فیصل جاوید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا تھا وہ کرا دیا لیکن انہیں نہ تو این آر او ملے گا اور نہ استعفیٰ ملے گا۔
سینیئر تجزیہ کار ناصربیگ چغتائی نے کہا کہ مولانا اور وزیراعظم کا موقف سخت ہوگیا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان کم ہے کہ اب دونوں کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں۔
عامر ضیا نے کہا کہ اگر کسی بھی مجمعے کی خواہش پر حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو یہ سلسلہ چل پڑے گا۔
مولانا حامد الحق نے کہا کہ کشمیری اپنے جذبے کے مطابق بھارتی فورسز سے لڑ رہے ہیں لیکن ان کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں۔
عامر ضیاء نے کہا کہ لچک آنا خوش آئند ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے رویے میں تضاد بھی موجود ہے۔ حکومت کی کوشش کی ہے کہ مارچ سے پہلے سیاسی ماحول میں کشیدگی کم کرے۔
الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان میں جاری سیاسی درجہ حرارت کو کم کر کے کشمیر کے معاملے کو آگے لے کر جایا جائے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر قاضی مسعود احمد نے کہا کہ شبر زیدی کو سب سے زیادہ توجہ کارپوریٹ سیکٹر پر دینی چاہیے اور ان سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔
.عامر ضیاء نے کہا کہ اداروں کو ختم کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان کا علاج ہونا چاہیے۔ شکایات پر اتنی سختی بات کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
پی آئی اے کی پیپلز یونٹی کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے کی بہتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے ملازمین کو آج بھی تنخواہیں تاخیر سے مل رہی ہیں۔
سینئر صحافی زاہد حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی میدان میں اچھا کھیل رہے ہیں۔
شرف الدین میمن نے کہا کہ نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔
مشعال ملک نے کہا کہ عالمی میڈیا نے ہندوستان کا حقیقی چہرہ دنیا بھر کو دکھایا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
جاوید میانداد نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے سینئر کھلاڑیوں کو سفیر بنا کر دیگر ممالک میں بھیجنا چاہیے۔
’بھارت نے ڈھٹائی اختیار کرلی ہے وہ کشمیرپر کسی صورت واپس ہٹنے کو تیار نہیں‘














