کورونا ویکسین لگنے کی شرح میں اضافے کی ضرورت ہے، عالمی ادارہ صحت
تاحال اس قسم کے شواہد نہیں ملے ہیں کہ جن سے یہ ثابت ہو کہ بیماری لیبارٹری سے پھیلی تھی۔
ایوارڈ ٹوبیکو اسموک فری سٹی منصوبے کی کامیابی پرملا
کارکنوں کی موت کی وجہ ان کا ہفتہ وار 55 گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا بنی، ڈبلیو ایچ او
بھارت کی حدود سے باہر برطانیہ میں سب سے زیادہ تعداد میں B1،617 وائرس سے متاثر ہے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھارت میں پائے جانے والی کورونا وائرس کی قسم (B.1.617) کو عالمی خطرہ قرار دے دیا۔
بھارت کی ہر ممکنہ طور پر مدد کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم
کورونا جیسا وائرس پنگولین میں بھی پایا گیا ہے، ڈبلیو ایچ او
ابھی تک دنیا کے 36 ممالک ایسے ہیں کہ جہاں تاحال کورونا ویکسین کی خوراک نہیں دی گئی ہے، ڈاکٹر ٹیڈروس کا انکشاف
اب تک جنوبی ایشیاء میں ایک کروڑ تیس لاکھ افراد عالمی وبا سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 86 ہزار کی اموات ہوئی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ چین کے شہر ووہان کا دورہ کرنے والے بین الاقوامی مشن کی تیار کردہ ہے۔
ہم نہیں چاہتے ہیں کہ لوگوں میں اس حوالے سے خوف و ہراس پھیلے، عالمی ادارہ صحت کے چیف سائنسدان سومیا سوامیناتھن
ویکسین لگائے گئے پانچ ملین افراد میں سے خون جمنے کے 30 واقعات سامنے آئے ہیں، یورپین میڈیسن ایجنسی
افریقہ کے مغربی ممالک میں 2013 سے 2016 کے درمیان ایبولا وائرس پھیلا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔
گذشتہ سات ہفتے کے بعد پہلی مرتبہ کروناوائرس کے یومیہ تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ڈی جی ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم











