جس وقت کابل خود کش حملے سے لرزا عین اسی وقت امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا ٹی وی انٹرویو نشر کیا جارہا تھا۔
طالبان کے ساتھ ہونے والے امن معاہدے پر دستخط کے بعد امریکہ پہلے 135 دنوں میں افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے پانچ ہزار فوجی نکالے جائیں گے۔
معاہدے سے نہ صرف افغانستان میں ہونے والے تشدد میں کمی آئے گی بلکہ بین الافغان مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ امریکی دعویٰ
افغان سیکیورٹی فورسز طالبان کے اس حملے کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ترجمان افغان صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہم افغانستان سے مکمل فوجی انخلا نہیں کر رہے۔
خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ کہیں ایک مرتبہ پھر امریکی انتظامیہ کے اہم ترین افراد کی جانب سے استعفوں کا سلسلہ شروع نہ ہوجائے۔
افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے حتمی سمجھوتے پر پاکستان، چین، روس، اور افغانستان سمیت اقوام متحدہ کے بطور عالمی ضمانت دہندگان دستخط ہوں گے۔
خواتین کا کہنا ہے طالبان کو اقتدار میں لانے سے پہلے ان کے کاروبارری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے
امریکہ طالبان کےساتھ انخلا کا نہیں بلکہ امن کا معاہدہ چاہتا ہے، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان
اسلام آباد میں وہ اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے
واقعہ بدھ کی صبح تقریباً 6 بجے قندھار-حیرت ہائی وے پر پیش آیا۔
بم اس وقت پھٹا جب ایک مشتبہ شخص دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کی کوشش کر رہا تھا
افغان مسئلے کے حل میں کل بھی دشواری تھی آج بھی مشکلات ہیں، شاہ محمود
وزیر خارجہ نے کہا کہ آج امریکہ، روس، چین اور یورپی ممالک بھی پاکستان کے مؤقف کے تائید کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ کامیاب دورہ امریکہ پر پاکستان دشمن عناصر خوش نہیں ہیں، وہ اس طرح کی کارروائیوں سے افغان مفاہمتی عمل کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔












