نماز جنازہ آج عصرکے وقت میڈیا ٹاؤن اسلام آباد میں ادا کی جائے گی
جیو ٹی وی چینل سے وابسطہ صحافی ارشد وحید چودھری گزشتہ دو ہفتے سے راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔
مرحوم کی نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیات، صحافیوں اورعزیز و رشتہ داروں کے علاوہ اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
عامر ضیا نے کہا کہ اگر کسی بھی مجمعے کی خواہش پر حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو یہ سلسلہ چل پڑے گا۔
سینئر صحافی فہد حسین نے کہا کہ جلسے کے شرکا کو کوئی ڈی چوک جانے سے نہیں روک سکے گا۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپنی کشتیاں جلا کر اسلام آباد آئے ہیں۔
سلیم صافی نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے مریم نواز اور نواز شریف کو ملک سے باہر بھیج کر جان چھڑائی جائے
ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیمرا کا خط آزادی صحافت پر حملہ ہے اور صحافت پر پابندی کے مترادف ہے۔
سینئر صحافی زاہد حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی میدان میں اچھا کھیل رہے ہیں۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سارے کاروباری افراد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
عاصمہ شیرازی نے کہا کہ موجوہ ملکی صورتحال کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کامیاب ہو سکتا ہے۔
محمد مالک نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 21 ٹاسک فورس کمیٹیاں بنا دیں جن پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں لیکن ان کا نتیجہ صرف ہے۔
پروگرام کے میزبان محمد مالک نے کہا کہ مریم نواز کی گرفتاری سے لگتا ہے ملک میں کوئی شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔
میزبان محمد مالک نے کہا کہ آزادی صحافت صرف جمہوریت کے لیے نہیں بلکہ ہماری اپنی ذاتی آزادی کے لیے بھی ضروری ہے۔
کاشف عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے اور وہ اب کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔














